LifetimeEarn

Saturday, 20 February 2016

بھنڈی: مفید ترین غذائی اجزاء کی حامل سبزی


ہمارے روزہ مرہ کے استعمال میں جو سبزیاں آتی ہیں،قدرت نے ان میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بھی رکھی ہے۔ اگر ہم ان سبزیوں کا متواتر اور صحیح طریقے سے استعمال کریں تو یہ ہمیں بہت سی بیماریوں اور پریشانیوں سے بچاسکتی ہیں۔ گہرے سبز رنگ کی سبزیاں اہم غذائی خزانہ ہیں۔انھی غذائی خزانے سے مالا مال سبزیوں میں بھنڈی کا بھی شمار ہوتا ہے۔

موسم گرما کی پسندیدہ سبزی اور ہماری مرغوب غذا بھنڈی کو سب سے پہلے ایتھوپیا میں دریافت کیا گیا تھا ۔ پھروہاں سے یہ یورپ، امریکہ اور ایشائی ممالک میں مقبول ہوتی گئی۔ یہ مصریوں کی محبوب ترین غذا ہے۔بھنڈی کا نباتاتی نام اپیل موشیوس ہے جبکہ اسے ہندی میں اوکرا،عربی میں بامیا،انگری میں لیڈی فنگرکہتے ہیں۔ بھنڈی کا پودا تین سے پانچ فٹ تک بلند ہوتا ہے۔جس کا تناروئیں دار اور پتے دندانے دار ہوتے ہیں۔پھول بڑے اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔

گھر کے باغیچوں میں بھنڈی کی کاشت آسانی سے کی جاسکتی ہے، اس کی گھریلو فصل پورے موسم میں باورچی خانے کی پوری ضرورت پوری کرسکتی ہے۔ اسے خشک کرکے محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے۔بھنڈی کا سالن بناتے وقت اسے زیادہ دیر تک بھوننا نہیں چاہیے۔ آگ پر زیاد ہ دیر تک پکانے پر اس کے وٹامین اور مفید اجزاء ضائع ہوجاتے ہیں۔ بھنڈی میں نشاستہ، کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، سوڈیم، گندھک، جست، آیوڈین اور کئی مفید اجزا شامل ہوتے ہیں۔

بھنڈی کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:
*ایسے افراد جو مردانہ قوت سے یکسر محروم ہوچکے ہیں انھیں چاہیے کہ بھنڈیوں کی جڑ کا سفوف بنالیں اور اسے دودھ میں ملا کر پئیں۔ روزانہ ایک گلاس آپ کو ایک نئی طاقت سے روشناس کرائے گا۔
* حاملہ خواتین کے لیے بھنڈی کھانا نہایت فائدہ مند ہے کیونکہ ان میں فولیٹ پایا جاتا ہے۔ فولیٹ کی کمی سے حاملہ خواتین کے ہونے والے بچوں میں شدید جسمانی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
* بھنڈی کا شمار بغیر نشاستے کی سبزی میں ہوتا ہے، یعنی کہ ان میں کاربو ہائڈریٹس کی مقدار زیادہ نہیں جیسے کہ آلو وغیرہ میں ۔اور انھیں کھانے سے خون میں شوگر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا اس لیے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی بے حدمفید سبزی ہیں۔
*بھنڈیوں کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کر کے لوگ نہ صرف اس میں موجود نمکیات اور وٹامن سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اس سے وزن گھٹانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ بھنڈیوں میں موجود فائبر سے قبض کی شکایت میں کمی ہوتی ہے۔
*بھنڈی کھانے سے السر اور جوڑوں کے درد میں آرام آتا ہے۔ اس کے علاوہ پھیپھڑوں کے انفیکشن اور گلے کی خرابی بھی بھنڈی کھانے سے دور ہو جاتی ہے۔
*بھنڈی میں وٹامن اے پایا جاتا ہے۔ وٹامن اے سے آنکھوں کی روشنی تیز ہوتی ہے اور جلد کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
*بھنڈیوں میں ایسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جن سے منہ کے کینسر میں کمی واقع ہوتی ہے۔
* بھنڈی کھانے سے ٹھنڈ اور زکام سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
* گرمی کی وجہ سے بخار ہوجائے تو اس کا شوربہ بنا کر کھانے سے بے حد فائدہ پہنچتا ہے۔
*بالوں کو مضبوظ اور چمکدار بناتا ہے بھنڈی کا پانی بطور کنڈیشنر استعمال کیا جاتا ہے۔
* بھنڈی کھانے سے ذہنی خلفشار اور جسمانی کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے۔


پتوں والی سبزی کھائیں ، چاق چوبند ہوجائیں


انسان اور سبز پتّوں والی سبزیوں کا ساتھ بہت پرانا ہے۔ان کی غذائی اہمیت کے باوجود آج بعض لوگ انھیں معمولی درجے کی غذا سمجھتے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد انہی سبزیوں پر قائم ہے۔ قدرت ان ہی کے ذریعے زندگی کی تعمیر کے لیے ضروری اجزاء تیار کرتی ہے۔ ان کے بغیر زندگی زیادہ دیر تک صحت مند بنیادوں پر اُستوار نہیں رہ سکتی ہے۔ دودھ جسے ہم اعلیٰ درجے کی غذا سمجھتے ہیں انہی سبزیوں کا دوسرا روپ ہے۔

ہرے پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال صرف جسمانی فٹنس کا ضامن ہی نہیں بلکہ ان کے استعمال سے کینسر سمیت دیگر مہلک امراض کا خدشات بھی کم ہوجاتے ہیں۔برطانیہ میں سبزیوں کے استعمال اور فوائد کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تازہ اور ہرے پتوں والی سبزیاں سْستی ختم کرتی ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ ہرے پتوں والی سبزیوں میں پایا جانے والا ہیمو لیکونن خون کے خلیوں میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے جس کی وجہ سے سبزیاں کھانے والے افراد خود کو ہشاش بشاش اور چاق چوبند محسوس کرتے ہیں۔محققین کے مطابق سبزیوں سے آکسیجن زیادہ جذب ہوتی ہے اور خون کے خلیوں میں روانہ ہوجاتی ہے۔

ہرے پتوں والی سبزیاں پھیپھڑے، سینے اور مادر رحم کے کینسر کے خلاف موثر ثابت ہوتی ہیں، ایسے شواہد ملے ہیں کہ پتوں والی سبزیوں کے استعمال سے پھیپھڑے، معدے، بریسٹ، مادر رحم اور قولون کینسرکا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔یہ سبزیاں ایسے اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں جو کینسر کے پھیلاؤ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں وٹامن کے بھی پایا جاتا ہے جو ذیابیطس کی روک تھام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو لبلبے کے کینسرکا خطرہ کم کردیتا ہے۔ہفتے میں کم از کم ایک بار ان سبزیوں کا استعمال کینسر سے بچاؤکے لیے فائدہ مندثابت ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ سبزیاں حیاتین نمکیات اور سیلولوز سے بھرپور ہوتی ہیں۔ ان پتوں میں چمکدار سبزرنگ حیاتین اور کلوروفل کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ سبز پتے اپنے کاربوہائیڈریٹ کی بدولت انسان کو اچھی خاصی توانائی فراہم کرتے ہیں۔ اپنی مخصوص توانائی کی وجہ سے ان پتوں کو دن میں کم از کم دو مرتبہ کسی نہ کسی طرح ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ بطور سلاد یا ان کا سالن ساگ کی شکل میں پکا کر استعمال کرنا انسانی صحت کیلئے نہایت سود مند ہوتا ہے۔ یہ سبز پتے اپنے اندر موجود ریشوں اور دیگر اجزاء کی وجہ سے قبض کشا اثر رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کا نظام انہضام درست طور پر کام کرتا ہے اور بہت سے ایسے امراض سے انسان کو بچائے رکھتا ہے جو خرابی معدہ کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔ہرے پتوں والی سبزی میں موجود نمکیات اور حیاتین کی موجودگی غذا کو ہضم ہونے، تازہ اور مصفا خون کی فراہمی میں ممدو معاون ہوتے ہیں۔ سبزیوں کے ان پتوں میں مولی، ساگ، پالک، میتھی اور بتھوا وغیرہ کے پتے زیادہ مستعمل ہیں۔

مولی


یرقان کے مرض میں مولی کے پتوں کا رس نکال کر چینی ملا کر مریض کو پلانے سے مرض ختم ہوجاتا ہے۔ مولی کھانے والوں کو کبھی یرقان نہیں ہوتا۔ مولی کھانے کے بعد گڑ کھانے سے مولی جلد ہضم ہوجاتی ہے اور بدبودار ڈکار وغیرہ بھی نہیں آتے۔ تلی کے امراض میں بھی مولی کا کھانا بہت مفید ہے۔ اس کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ مولی کو چھیل کر اور کاٹ کر کالی مرچ اور ہلکا سا نمک لگا کر رات کو اوس میں رکھ دیں اور صبح نہار منہ کھائیں۔ ایک ہفتے میں شفا ہوگی۔ یہی نسخہ بواسیر کیلئے بھی ہے۔ایسے لوگ جنھیں سانس کی تکلیف ہو انہیں چاہیے کہ وہ مولی کھائیں کیونکہ اس میں موجود اجزاء کی بدولت سینے کی جکڑن کم ہوتی ہے اور سانس میں روانی آتی ہے۔ یرقان کے مرض میں مولی کے پتوں کا رس نکال کر چینی ملا کر مریض کو پلانے سے مرض ختم ہوجاتا ہے۔ مولی کھانے والوں کو کبھی یرقان نہیں ہوتا۔

پالک




یہ سب سے زیادہ استعمال ہونی والی سبزی ہے۔اس میں حیاتین الف اور لوہا وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔معدے کی سوزش ، جگر کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ دماغ کی خشکی سے نجات کے لیئے مفید اور آزمودہ ہے۔ جو بچّے مٹی یا کوئلہ کھاتے ہیں ، پیٹ بڑھا ہوا ہوتا ہے اور ضدّی ہوتے ہیں ، انہیں یہ غذا زیادہ کھلائیں۔ اس سے ان کا نظامِ ہضم درست ہوگا اور جسم میں طاقت آئے گی۔جن لوگوں کے جسم میں خون کی کمی ہو وہ اسے ضرور استعمال کریں۔

ساگ


سرسوں کے پتّوں کے ساگ میں حیاتین ب ، کیلشیئم اور لوہے کے علاوہ گندھک بھی پائی جاتی ہے۔اس کی غذائیت گوشت کے برابر ہے۔ یہ ساگ خون کے زہریلے مادّوں کو ختم کرکے خون صاف کرتا ہے۔ اطباء نے سرسوں کے ساگ ، مکئی کی روٹی اور مکھن کو ایک عمدہ غذا قرار دیا ہے۔ دار چینی ، بڑی الائچی ، کالا زیرہ پیس کر ساگ کے اوپر چھڑک کر کھانے سے گیس یا پیٹ میں مروڑ کی تکلیف نہیں ہوتی ، حکماء کے مطابق سرسوں کا ساگ اپنی تاثیر کے لحاظ سے گرم خشک ، قبض کشا اور پیشاب آور ہے۔اس کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہوجاتے ہیں اور بھوک بڑھ جاتی ہے۔

میتھی


میتھی میں تمام حیاتین ملی جلی شکل میں کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔یہ غذائیت سے بھرپور ساگ ہے۔ اس کے زرد رنگ کے بیج میتھی دانہ کہلاتے ہیں۔اس کا مزاج گرم تر ہے۔قدرت نے اس کے بیجوں میں حیاتین کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔ میتھی جسم کے فاسد مادّوں کو خارج کرتی ہے،کیونکہ اس کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے ، میتھی دانہ کا استعمال تقریباً ہر اچار میں ہوتا ہے۔یہ خون صاف کرتی ہے ، پھوڑے پھنسیوں سے بچاتی ہے ، چہرے کی رنگت نکھارنے میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔میتھی کا سالن غذائیت کے لحاظ سے ہر طبقے کے افراد کے لیے بہت مفید ہے۔

بتھوا


بتھوے میں وہ تمام غذائی اجزء پائے جاتے ہیں جو صحت اور توانائی کے لیئے ناگزیر ہیں۔یہ قبض کشا ہوتا ہے ، سینے اور حلق کو نرم کرتا ہے ، گرمی کو دور کرتا ہے ، پیاس بجھاتا ہے اور حلق کے ورم کے لیئے بھی مفید ہے۔ اطباء کے مطابق برص کے مرض میں روزآنہ دن میں چار یا مرتبہ بتھوے کے پتّوں کا رس سفید دانوں پر لگائیں اور بتھوے کا ساگ یا بجھیا بنا کر کھائیں۔دو ماہ کے استعمال انشاء اللہ برص کے داغ دور ہو جائیں گے۔ بتھوے کو اگر چقندر کے ساتھ پکائیں تو اس کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ بتھوے کا ساگ معدے اور آنتوں کو طاقت بخشتا ہے۔ جگر اور تلّی کے امراض میں مفید ہے۔ہر قسم کی پتھری اور پیشاب کی جملہ بیماریوں میں اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

سبزیوں سے علاج اور طبّی خواص



سبزیاں اور جڑی بوٹیاں اپنے طبّی خواص کی بدولت صدیوں سے علاج معالجہ کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔ ذیل میں چند معروف سبزیوں کے طبّی استعمال کا ذکر کیا جارہا ہے۔

میتھی


عربی میں جلسہ کے نام سے پکاری جانے والی میتھی ہمارے معاشرے میں بہت اہم حیثیت کی حامل ہے۔ کئی مرضوں میں اس کا استعمال حددرجہ مفید ہے۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت سعد ابی وقاصؓ کی مکے میں عیادت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’ان کے لیے کوئی طبیب بلاؤ چناچہ حضرت حارث بن کلدہؓ کو بُلایا گیا۔ حارث نے میتھی اور کھجور سے ایک مرکب تیار کیا چناچہ وہ شفایاب ہوئے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’میتھی سے شفاء حاصل کرو‘‘۔ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر لوگوں کو میتھی کے فوائد کا علم ہوتا تو وہ اسے سونے کے بھاؤ خریدلیتے۔ میڈیکل سائنس کی ایک تحقیق کیمطابق روزانہ میتھی کے بیج کے استعمال سے نہ صرف ذیابیطس پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے بلکہ خون میں کولیسٹرول (چربی) کی سطح میں بھی کمی آتی ہے جس کی وجہ سے قلب پر حملوں کے اندیشے میں کمی واقع ہوتی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن انڈیا (N.I.N ) کے ایک تحقیقاتی جائزے میں کئی سال قبل ہی میتھی کے بیجوں کے استعمال کی غیرمعمولی افادیت کا اعلان کیا تھا اور ذیابیطس کے ایسے مریضوں کے لیے بھی اسے مفید قرار دیا گیا تھا جو انسولین کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے ایک سائنسدان ڈاکٹر سی رگھورام کا خیال ہے کہ میتھی سے خون میں گلوکوز کی سطح میں قابل لحاظ کمی آتی ہے اور پیشاب میں تو صرف دس دن کی مدت میں 46 فیصد تک کمی ہوتی ہے۔
ہمارے ملک میں میتھی کے بیجوں کو مصالحے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مزہ کڑوا ہوتا ہے لیکن دیگر مصالحہ شامل کرکے بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ یہ بیج دال، ترکاری اور چٹنی میں سفوف کی شکل میں یا پھر پانی یا چھاچھ میں شامل کرکے کھانے سے پہلے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
روزانہ استعمال کی مقدار کا انحصار ذیابیطس کی شدت پر ہوتا ہے اور یہ مقدار 25 گرام (دوبڑے چمچوں) سے سو گرام تک ہوسکتی ہے۔ اس کے استعمال سے ذیابیطس کی دوا کے استعمال میں کمی کی جاسکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک خون میں شکر کی سطح زیادہ ہو، میتھی استعمال کی جاسکتی ہے ۔ اس کا ایک ہی ذیلی اثر ہے کہ بعض مریضوں کا پیٹ پھول جاتا ہے لیکن بعد میں یہ خود بخود دورہوجاتا ہے۔

کریلا


کریلا موسم گرما کی عام سبزی ہے۔ اس کا مزاج گرم اور خشک ہے۔ کریلے کی کڑواہٹ بعض افراد کو ناگوار گزرتی ہے تاہم اس میں طبّی نکتہ نگاہ سے متعدد فوائد پوشیدہ ہیں۔کریلا خون کو صاف کرتا ہے اور خون میں موجود فاسد مادوں کو ختم کرتا ہے۔ جسم کو قوت بخشتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے، تِلی، جگر کی بیماریوں اور بخار میں مبتلا افراد کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیئے اس کا استعمال بہت فائدہ مند ہے۔

ککڑی


ککڑی پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہے۔ کھانے میں بطور سلاد اس کا استعمال بہترین ہے۔ اس کا مزاج سردتر ہے اور یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ جن افراد کو بادی کا عارضہ لاحق ہے۔ اگر وہ ککڑی کو کالی مرچ کے ساتھ استعمال کریں تو اس کے بادی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یرقان میں ککڑی کا استعمال فائدہ مند ہے۔ اسے نمک لگا کر کھانا چاہیئے۔ کھانے کے فوراً بعد (کچھ دیر کا وقفہ دئیے بغیر) پانی نہیں پینا چاہیئے۔

بھنڈی/توری


بھنڈی اور توری کو موسم گرما کی ہردلعزیز سبزیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ توری کا بھرتہ، بھجیا بھی بنائی جاتی ہے۔ بھنڈی پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہے۔ اس کا مزاج سردخشک ہے۔ بھنڈی گرم مزاج لوگوں کو جلد ہضم ہوجاتی ہے۔ بھنڈی اور توری وٹامن اے، بی، سی اور ڈی سے بھرپور سبزیاں ہیں۔

ٹینڈے


ٹینڈے کا طبّی مزاج خشک اور سردترہے۔ ٹینڈے گرمیوں کی عام سبزی ہے اور پورے موسمِ گرما میں باآسانی دستیاب رہتی ہے۔ اس کا مزاج چونکہ سرد زیادہ ہے اس لیئے نزلہ، زکام اور سینے پر بلغم کی شکایت رکھنے والے افراد کے لیے نقصان وہ ہے لیکن خشک کھانسی اور گرمی کے بخاروغیرہ میں اس کا استعمال مفید ہے۔ گرمیوں میں ٹینڈے کا سوپ کالی مرچ اور نمک ڈال کر پینے سے دماغ کو تقویت ملتی ہے۔ یہ زور ہضم ہے۔ گرم مصالحے کے استعمال سے یہ سبزی ہر قسم کے مزاج رکھنے والے افراد کو موافق آجاتی ہے۔ ٹینڈے چھوٹے چھوٹے اور گول ہوں تو نہایت آرام سے پک جاتے ہیں کیونکہ پکے اور بڑے بڑے ٹینڈوں کے بیج سخت ہوجاتے ہیں لہذاان کا استعمال معدے کیلئے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔

پودینہ


یہ گرمیوں کی مفید اور خوشبودار سبزی ہے۔ اس کا مزاج گرم اور خشک ہے۔ یہ زرد ہضم ،معدے اور آنتوں کو تقویت دینے والی سبزی ہے۔ معدہ پودینہ کو دوسے تین گھنٹوں کے دوران ہضم کرلیتا ہے۔ اس کا استعمال بد ہضمی، ڈکار کی کثرت، پیٹ بڑھنے، منہ کی بدبُو، متلی اور گیس کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ چند پتی پودینے ڈال کر اُبلا ہوا پانی گرمیوں میں پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ یہ معدہ، جگر اور گردے وغیرہ کو قوت بخشتا ہے۔ خون صاف کرتا ہے اور جسم کے اندر زہریلے اور فاسدمادوں کو ختم کرتا ہے۔ قدرت نے غذائی نالی کو مضبوط بنانے کے لیئے اس میں تھوڑی مقدار میں نشاستہ دار گلوکوز بنانے والے اجزاء بھی شامل کردئیے ہیں۔یہ جسم کو چاک وچوبند رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

اروی


اروی اپنے طبّی خواص کے اعتبار سے گرم تر ہے۔ یہ سرداور خشک مزاج رکھنے والوں کو جلد ہضم ہوجاتی ہے۔ بھوک کو تیز کرتی، خشک کھانسی کو رفع کرتی ہے ی،یہ قدرے ثقیل ہے۔ اسلیئے قبض بھی کرتی ہے اور عموماً دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ اروی گردوں کو طاقت دینے والی لذیز سبزی ہے۔ اس میں وٹامن اے اور بی کے علاوہ نشاستہ، شکر اور روغنی اجزاء بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ ایک پاؤ اروی میں دوچپاتیوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے۔ اس کے کھانے سے معدے کی جلن اور خراش رفع ہوجاتی ہے۔ اس کا سالن خشک کھانسی، گلے کی خراش اور سینے کی جلن میں بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس کے کھانے سے بواسیر کے مرض میں خون کا اخراج کم ہوجاتا ہے۔

پودینہ کھائیں ،بیماریوں سے نجات پائیں


وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہمارے رہن سہن کے طریقے بدلے ہیں بالکل اسی طرح بیماریوں کے بھی طریقۂ علاج بھی بدل گئے ہیں۔ ہم قدرتی اجزا کو فراموش کرچکے ہیں۔ ذرا سی چھینک بھی آئے تو فوراً ڈاکٹر کے پاس بھاگتے ہیں۔ جبکہ قدرت نے سبزی اور پھلوں میں ایسی افادیت رکھی ہے کہ ہم چھوٹی بڑی ہرطرح کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مگر اب ہم لوگ جلد باز ہوگئے ہیں ، کچھ زمانے کے تقاضے اور وقت کی کمی ہے، لہٰذا ہم قدرت کے ان خزانوں سے فائدہ اُٹھانا مشکل سمجھتے ہیں۔ جبکہ ذراسی توجہ اور مستقل مزاجی سے ہم بہت سی بیماریوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔آپ پودینے کو ہی لے لیجیے۔نہایت سستی اور بہ آسانی ملنے والی یہ جڑی بوٹی یا سبزی ہمارے لیے کس قدر افادیت لیے ہوئے ہے آیئے دیکھتے ہیں۔

عام طور پر پودینہ کو گھروں میں چٹنی کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن یہ مزیدار چٹنی جہاں ذائقہ اور خوشبو رکھتی ہے وہاں اس کے فائدے بھی بے شمار ہیں:

*پودینے کی خوشبو غدودوں کو متحرک کرتی ہے جس سے بھوک لگتی ہے ، کھانا اچھی طرح سے ہضم ہوتا ہے۔
*پودینہ کے استعمال سے سر درداور متلی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ پودینہ عمل تنفس سے متعلق بیماریوں میں بھی فائدہ مند ہے۔
*پودینہ تمام جلدی امراض میں بہت مفید ہے ،جیسے خارش، کیل مہاسے اور گرمی دانے وغیرہ ۔پودینہ کی بڑی خوبی الرجی سے بچاؤ کی ہے۔ ایک شدید قسم کی الرجی جس سے جسم پر خارش ہوتی ہے اور سرخ نشان پڑ جاتے ہیں۔ اس میں پودینہ بہت فائدہ مندہے۔ پودینے کے پتوں کی چائے بنا کر قہوہ کی طرح پیا جائے ، اگر الرجی زیادہ ہو تو گلاب کے عرق میں پودینہ کے پتے ڈال کر ابالے جائیں اور صبح شام پیا جائے تو بہت جلد فائدہ ہوگا۔
*پودینہ طبیعت میں فرحت لاتا اورکھانے کی رغبت بڑھاتا ہے۔ سردرد گیس اور بد ہضمی میں انتہائی فائدہ مند ہے۔
* بلڈپریشر کے مریضوں کیلئے پودینہ اور لہسن کی چٹنی نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ خواتین ایّام شروع ہونے سے تین چار دن پہلے پودینہ کا جوشاندہ پینا شروع کردیں تو ایام کھل کر آتے ہیں۔پودینے میں وٹامنز اور معدنی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں لہٰذا پودینہ تازہ ہو یا خشک اس کا استعمال بہرحال لذت کام و دہن اور صحت کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔پودینہ کو بطور غذا بھی استعمال کیا جائے تو ایسے افراد جو گردے اور مثانے کی پتھریوں سے پریشان ہیں انھیں پودینہ کھانا چاہیے۔
*پودینہ اپنے خوشگوار ذائقہ اور اجزاء کی وجہ سے دانتوں کے معروف امراض اور بدبو کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پودینہ میں کلوروفل اور جراثیم ہوتے ہیں اگر کسی کو پائیوریا،مسوڑھوں کی خرابی اور دانتوں کی کمزوری جیسی شکایت ہو یا پھر گلا بیٹھ جائے اور زیادہ بولنے سے خراش پیدا ہوجائے تو تازہ پودینے کے پتے چبانے اور تازہ پودینے کے جوشاندہ میں نمک ملا کر غرارے کیے جائیں تو آواز کھل جاتی اور گلے کی تکلیف رفع ہوجاتی ہے۔
*پودینہ ہیضہ کی تکلیف میں بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
* پودینے کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے بھی مر جاتے ہیں۔ پیٹ کے علاوہ پودینہ اور بھی کافی امراض میں فائدہ بخش ہے ناک اور کان کے کیڑوں کو مارنے کے لیے پودینے کا پانی ڈالا جاتا ہے جس سے کیڑے مر جاتے ہیں۔
* دمہ کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال بہت اچھا ہے اور بلغم کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔
* پودینے کا جوشاندہ بنا کے پینے سے بلڈپریشر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ بچھو یا بھڑ کے کاٹنے پر پودینے کو پیس کے زخم والی جگہ پر لگایا جاتا ہے یہ زہر کو جذب کر لیتا ہے اور درد میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔ پودینے کا قہوہ بھی پیا جاتا ہے۔
*حال ہی میں ہونے والی ایک جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پودینے کا مسلسل استعمال انسانی جسم میں کولیسٹرول لیول کو کم کرتا ہے اور اس میں موجود مگنیشیم ہڈیوں کو طاقت دیتا ہے،بظاہر ایک معمولی سی سبزی نظر آتی ہے تاہم اس میں بے شمار خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
*ماہرین کا کہنا ہے کہ پودینے کی پتیوں کا تازہ رس لیموں اور شہدکے ساتھ اسی طرح مقدار میں شامل کر کے استعمال کرنے سے پیٹ کی تمام بیماریوں کو افاقہ ہوتا ہے۔
* کھانسی اور زکام کی صورت میں پودینے کا رس کالی مرچ اور کالے نمک کے ساتھ اُبال کر استعمال کرنے سے آرام آتا ہے ۔
* ہچکی کی صورت میں پودینے کی پتیاں چبانے سے ہچکیاں بند ہو جاتی ہیں۔
*گرمیوں میں جی متلانے اور اُلٹی آنے کی صورت میں ایک چمچہ خشک پودینے کا پاؤڈر میں الائچی کا پاؤڈر ایک گلاس پانی میں اُبال کر استعمال کرنے سے طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ اگر جلد پر کوئی زہریلا کیڑا کاٹنے کی وجہ سے انفیکشن ہو گیا ہو تو اس میں بھی فائدہ مند ہے کیوں کہ قدرتی طور پر پودینے میں خطر نا ک بیکٹیریا کو ختم کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ پودینے کا استعمال دن بھر کی تھکن کو ختم کرتا ہے۔ بدہضمی اور گیس کی بیماری میں بھی فائدہ مند ہے۔ پودینہ میں یہ خاصیت بھی ہے کہ خون میں مضر مادوں کو پسینہ کے ذریعے خارج کرتا ہے اس لئے یرقان جیسے موذی مرض میں اس کا استعمال بہت فائدہ دیتاہے۔ پودینہ میں وٹامن ای کا بہت بڑا خزانہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ خون کی شریانوں کو فعال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پودینہ کو بلغمی کھانسی، نزلہ زکام میں بھی قہوہ کی طرح پیا جائے تو جلد ا?رام محسوس ہوگا۔اس کے علاوہ معدہ کے امراض کے لئے یہ علاج اکثیر ہے۔ پودینہ کو اچھی طرح دھو لیا جائے پھر چھاو?ں میں سکھا لیں جب سوکھ جائیں تو ہاتھ سے مسل کر پاوڈر کی طرح بن جائے تو ایک شیشی میں ڈال کر رکھ لیں۔ جب کھانا کھائیں تو اس پر چھڑک لیں تو گیس ،بد ہضمی ،جلن اورمعدہ کے زخم میں فائدہ ہوگا ۔ پودینہ کے اتنے فائدے ہیں کہ حساب نہیں۔ اس کو سفر پر بھی ساتھ رکھیں تو اچھا ہے،راستے میں سفر کے دوران قے،متلی یا پیٹ کی بیماری ہو تو اس کا استعمال بہت فائدہ دے گا۔

پودینہ کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں سیبی پودینہ، رنگ برنا، پودینہ،سیاہ پودینہ، سفید پودینہ، ادرکی پودینہ، لیمونی پودینہ، کالی نفسی پودینہ، خوشبودار پودینہ معروف اقسام ہیں۔-

Tuesday, 9 February 2016

8 reasons why you need orange in your diet



People often ask if orange color is called orange because of the fruit or is it the other way round. The truth is that no one is sure. Orange is a seasonal fruit in Pakistan and is not available throughout the year like other countries.

Orange is popular for its raw juicy pulp, sweet and tangy flavor and also for its goodness of vitamin C. It is loaded with health and beauty benefits so Pakistanis make the most of it while the season lasts.
VITAMIN C

Being an excellent source of vitamin C, orange saves the body’s internal environment from damage by free radicals (harmful oxygen species). This reduces inflammation and can help with a lot of infections and inflammatory diseases like rheumatoid arthritis and osteoarthritis. Vitamin C also helps strengthen immune response in the body. Although not established, vitamin C might help keep cold and flu at bay as it helps boost immune system.
ANTI-INFLAMMATORY

The same anti inflammatory property of oranges helps prevent heart disease. Oxidation of cholesterol lead by free radicals leads to tiny bits of cholesterol getting stuck to the walls of your blood vessels. This leads to plaque formation in the arteries which leads to blockage in blood flow and deprives tissues of oxygen. It can cause heart attack, coronary artery blockage and stroke. Vitamin C prevents this by eliminating free radicals. Other than vitamin C, hepsedrine present in the inner skin of orange lowers cholesterol level, preventing heart disease in a different way.
ANTI-AGEING

The reason oranges are so popular in makeup industry is also its vitamin C content. Orange extracts re used in masks, face packs and creams. This is once again because of anti inflammatory property of oranges that help prevent acne, black heads and keeps pores clean. Vitamin C is plays key role in synthesis of collagen (glycoprotein that skin is essentially made of) therefore, it helps rejuvenate skin. This property also helps with premature aging of skin which represents as wrinkles, fine lines and dryness.
VITAMIN A

Other than vitamin C, oranges are also packed with vitamin A. This vitamin keeps mucus membranes- that cover various parts of the body such as eyes, oral cavity, and skin- healthy. Vitamin A protects against macular degeneration which is a vision related disease and can lead to blindness especially in children who are vitamin A deficient. Vitamin A helps eyes with absorbing light without which it is not possible to see.
GOOD FOR PREGNANCY

Doctors recommend pregnant females to have lots of fruit. Oranges are recommended as they help in brain development of the baby. Orange contains folic acid which is crucial for brain formation in utero. Females deficient in folic acid give birth to babies with birth defects such as spina bifida and under development of brain. Oranges also enclose phytonutrients called polyphenols that take part in development of intellect and memory function of the brain.
PREVENTS CANCER

Oranges have cancer preventing effects which are by virtue of limonene D also found in oranges. It is known to prevent different types of cancers including lung, breast and skin cancer. Anti oxidant effect of vitamin C also prevents fighting cancer cells. Often cancer is caused by mutations in DNA which can be prevented by intake of orange.
FIBER

The inner peel of orange is a great source of soluble and insoluble fiber. It increases the bulk of stool and helps in constipation and straining as transit time is reduced. It also helps in irritable bowel syndrome.
FIGHT DIABETES

Rich fiber content of orange is also useful for diabetics. Since they cannot eat sugary sweets, they can eat moderate amount of oranges to tingle their taste buds. Not only that, fiber content helps regulate amount of sugar.

Eating two oranges a day will not only keep you full, your taste buds happy but also meet your daily requirement of vitamin C.

Benefits Of Beetroot For Health

Beetroot is very healthy vegetable and mostly used as salad. It is full of nutrients and rich source of antioxidants like vitamin C, it also contain foliate, B complex vitamins, minerals, and fiber. One special characteristic is that they also contain moderate amount of nitrates which are natural substances effective in lowering blood pressure by dilating blood vessels and also they dilate the skin vessels so skin release more heat and secrete toxic substances from body.
This is the reason why this vegetable has cooling effect on body. Beetroot is also very effective for liver disorders. Beetroot juice is very useful for healthy and shiny hairs also. Beetroot contains many minerals like zinc, copper, phosphorous, Calcium, potassium, sodium and iron that maintain good brain and body health. Beetroots are very fibrous and lower cholesterol levels and prevent from stomach and colon cancer.
Beetroot juice is full of energy due to presence of carbohydrates which breakup into simple sugars and provides energy. Especially after heavy exercise, a glass of beetroot juice relieves the muscle cramps and prevents dehydration. Beetroot is rich in iron and foliate, two blood-forming elements people suffering from anemia also benefit from this gift of nature.

مٹر کے چھ اہم فوائد



مٹر ایک سستی اور باآسانی دستیاب ہونے والی سبزی ہے ۔ اسے ایک پاور فوڈ کہا جاسکتا ہے ۔مٹر میں کئی غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو کہ انسانی صحت اور تندرستی کے لیے بے حد ضروری ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے دانوں والی یہ سبزی دنیا میں تقریباًہر جگہ ہی دستیاب ہوتی ہے ۔ یہ موسم سرما میں سبزی منڈیوں میں کثیر تعداد میں دستیاب ہوتی ہے۔ مٹر کے بے شمار فوائد و خصوصیات ہیں جن میں سے چند کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہے:
1 ۔وزن متوزن رکھتا ہے



مٹر میں فیٹ یا چربی کم ہوتی ہے ۔ ایک کپ میں سو کیلریز ہوتی ہیں جب کہ ایک بڑی مقدار میں پروٹین، فائبر اور مائیکر نیوٹریئنٹس موجود ہوتے ہیں ۔ اس کے استعمال سے وزن نہ زیادہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے بلکہ اس میں توازن برقرار رہتا ہے ۔
2۔ معدے کے کینسر سے بچاتا ہے


مٹر میں کومیسٹرول نامی ایک غذائی اجزا موجود ہوتا ہے جو صحت کے لیے بے مفید ہے ۔ میکسیکو میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 2ملی گرام کومیسٹرل اگر جسم کو حاصل ہوجائے تو معدے کے کینسر کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے ۔ مٹر کے ایک کپ میں 10ملی گرام کومیسٹرول پایا جاتا ہے ۔
3۔ الزائمرز اور گٹھیا کے مرض میں مفید ہے


مٹر کی اینٹی ان فلیمیٹری یعنی سوزش دور کرنے والی خصوصیات اسے ایسے امراض کے لیے بے حد فائدے مند بناتی ہیں ۔ سوجن بڑھنے سے کینسر ،امراض قلب کے ساتھ بڑھتی عمر کے اثرات تیزی سے ظاہر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ مٹر میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ، وٹامن سی اور وٹامن ای کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے ۔
4۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدے مند ہے



اس میں پروٹین اور فائبر ہوتا ہے جو جسم میں جاکر شکر کو خون میں آسانی سے شامل نہیں ہونے دیتا ۔ اس کی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خوبیاں اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین غذا بناتی ہیں ۔
5۔ ماحول کے لیے صحت بخش ہے



مٹی میں موجود بیکٹیریا کے ساتھ مل کر مٹر ہوا میں موجود نائیٹروجن کو مٹی میں جذب کر لیتے ہیں جس سے زمین کو ایک قدرتی فرٹیلائزر حاصل ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی آب و ہوا سے نائیٹروجن بھی صاف ہوجاتی ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے ۔
6۔ہڈیوں کو مظبوط بناتا ہے


محض ایک کپ مٹر میں 44فی صد وٹامن کے موجود ہوتا ہے جو ہڈیوں میں کیلشیئم اسٹور کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں پایا جانے والا وٹامن بی گھٹیا کے خطرات کو کم کرتا ہے ۔


دہی سے جلد گوری اور خوبصورت بنانے کے ٹوٹک



دہی پروٹین، کیلشیئم ، وٹامنزاور پری بائیو ٹکس سے بھرپور ہے ۔ اسے ایک صحت بخش غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس سے جسم کو بے پناہ فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ جسم کے دیگر اعضا کے ساتھ ساتھ یہ جلد کی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے ۔ دہی میں لیکٹک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو جلد کو جوان ترو تازہ رکھتا ہے ۔ اس سے جلد نرم و ملائم ہوجاتی ہے ۔ دہی سے کیل مہاسے بھی ختم ہوتے ہیں اور رنگت صاف ہوتی ہے ۔ دہی کو اس کی خالص اور اصل شکل میں استعمال کیا جائے تو اس میں موجود غذائی اجزا جلد کو پر کشش اور صحت مند بنا دیتے ہیں ۔

جلد کے حسن و دلکشی کے لیے دہی کھانے کے علاوہ چہرے پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ جلد خوبصورت بنانے کے لیے دہی کو مندرجہ ذیل طریقوں سے استعمال کرکہ دیکھیں:
اسکن وائٹننگ

جلد پر دہی کے باقائدگی سے استعمال سے جلد چمک دار ہو جاتی ہے اور جھائیاں دور ہو جاتی ہیں ۔ اسکن وائٹننگ کے طور پر دہی کو استعمال کرنے کے لیے ایک سے دو چھوٹے چمچ دہی میں چند قطرے لیمبو یا نارنجی کے جوس کے شامل کر دیں ۔لیمبو یا نارنجی کے عرق میں موجود سٹرک ایسڈ جلد کو قدرتی رعنائی مہیا کرے گا ۔
قدرتی موائسچرائزر

جلد کو نرم و ملائم بنانے کے لیے 4بڑے چمچ دہی میں 1چھوٹا چمچ کوکو پاؤڈر اور 1چھوٹا چمچ شہد شامل کریں ۔ اب اس ماسک کو چہرے پر بیس منٹ کے لیے لگا لیں ۔ پھر ہلکے گرم پانی سے چہرہ دھو لیں ۔
اس کے علاوہ دہی میں مسور کی دال کا پاؤڈر اور نارنجی کے چھلکوں کا مکسچر ہم وزن ملا کر لگایا جا سکتا ہے ۔ اسے 15منٹ کے لیے لگا رہنے دیں ۔اگر جلد زیادہ خشک ہو تو تھوڑا شہد بھی شامل کر لیں ۔ جلد نرم ہونے کے ساتھ ساتھ چمکدار بھی ہو جائے گی ۔
مردہ خلیات ہٹانے کے لیے اسکرب

دہی سے ایک زبردست اسکرب تیار کیا جا سکتا ہے ۔ دہی میں موجود اسکربنگ خصوصیات کی وجہ سے اس کا مساج کرنے سے جلد کے مردہ خلیات صاف ہو جاتے ہیں ۔ دہی میں چاول کا پاؤڈر ملا کر گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں ۔ اس سے چہرے پر گولائی میں مساج کریں ۔ تھوڑی دیر مساج کرنے کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھولیں ۔ چاول کی جگہ جو کا آٹا بھی شامل کیا جا سکتا ہے ۔
کیل مہاسے دور کرنے کے لیے

جلد سے کیل مہاسے ختم کرنے کے لیے صرف دہی بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ دہی کا گاڑھا سا پیسٹ چہرے پر لگا کر بیس منٹ کے لیے چھوڑ دیں ۔ کچھ دیر بعد منہ دھو لیں ۔
دہی کے پیسٹ میں ہلدی پاؤڈر، چینی اور سندل پاؤڈ ر بھی شامل کر سکتے ہیں ۔ اس پیسٹ سے جلد کا مساج کریں ۔ پندرہ منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں ۔
آنکھوں کے نیچے ہلکے

تھکن کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑجاتے ہیں ۔ ان کو دور کرنے کے لیے دہی کی پتلی سی تہہ آنکھوں کے نیچے لگا دیں ۔ ہلکی سی خشک ہوجانے پر روئی کی مدد سے پونچھ لیں اور سو جائیں ۔ اس عمل کو ایک ہفتے تک روزانہ سونے سے پہلے کرکہ دیکھیں ۔ آپ کے ہلکے ختم ہوجائیں گے ۔


Tuesday, 2 February 2016

دیر رات کھانا کھانے کے نقصانات

غذائیت سے بھرپور غذا ہمارے جسم کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ اس بات کا ہمیں معدہ خالی ہونے کے بعد محسوس ہونے والی کھانے کی ضرورت سے لگتا ہے جسے ہم بھوک کا نام دیتے ہیں ۔ بھوک مٹانے اور ضروری توانائی حاصل کرنے کے لیے دن کے مختلف اوقات میں مختلف غذائیں لی جاتی ہیں ۔لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کھائی ہوئی غذا ہمارے جسم کو جب ہی فائدہ پہنچاسکتی ہے جب اسے کھانے کا وقت صحیح ہو۔بے وقت کھانا خاص طور سے رات کا کھانا دیر سے کھاکر سوجانا ہماری صحت کو بہتری کی جانب لے جانے کے بجائے الٹا ہمیں نقصان پہنچاتا ہے۔ گھر کے بزرگ اکثر چھوٹوں کو کھانا وقت پر کھانے کی تاقید کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پیٹ کی زیادہ تر بیماریاں ہمارے اسی عمل کے نتیجے میں ہوتی ہیں ۔
آج کے دور میں ہم اپنے دوستوں میں اس بات کو ذکر کرنے پر فخر کرتے ہیں کہ میں رات کا کھانا گیارہ بجے کھاتا ہوں یا گیارہ کے بعد یا یہ کہ میں دیر سے سوتا ہوں ۔اگر ہم رات کا کھانا دیر سے کھاتے ہیں تو ظاہرسی بات ہے کہ کھاکر کچھ دیر بعد سوناہی ہوتا ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ سونے سے پہلے کچھ دیر کیلئے کمپیوٹریا ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا یہ عمل آپ کی صحت پر اور خاص طور پر معدے کو کتنا نقصان پہنچا رہا ہے؟شاید نہیں۔
ماہرین طب کے مطابق رات کا کھانا سونے سے کم از کم دوسے تین گھنٹے پہلے کھالینا چاہیے۔ اگر آپ دودھ پیتے ہیں تو سونے سے آدھا گھنٹا پہلے پی کر سوجائیں بلکہ کوشش کریں کہ رات کا کھانا کم سے کم کھائیں۔ رات کا کھانا دیر سے کھانے کے سبب انسان موٹاپے کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس لیئے کہتے ہیں کہ اگر مقررہ وقت پر اور بھوک کے مطابق کھانا کھایا جائے تو نہ صرف ہم موٹاپے سے بچ سکتے ہیں بلکہ نظام ہضم میں خرابی اور صحت کے دیگر مسائل سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
کھانے دیر سے کھانے کے بنیادی مسائل مدرجہ ذیل ہیں:
1۔ کھانا دیر سے کھانے سے نیند کے اوقات میں فرق آسکتا ہے ۔ کھانا کھانے کے بعد اسے ہضم کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے ۔ جب ہم کھانا کھا کر فوراًسو جاتے ہیں تو کھانا سونے کے دوران ہی ہضم ہوتا ہے جس سے باہر باہر آنکھ کھلتی ہے۔
2۔کھانا ہضم ہونے کے بعدجسم سے فاضل مادے کو خارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے لیے نیندمیں سے اٹھ کر ٹوائلیٹ جانا پڑتا ہے ۔
3۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ دیر میں کھاتے ہیں انہیں بھوک زیادہ لگتی ہے جس کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ غذا کا استعمال رکہ اپنا وزن بڑھا لیتے ہیں ۔ حرکت میں رہنے سے کھانا جلدی ہضم ہوتا ہے۔ کھا کر فوراً لیٹ جانے سے نظام انہضام سست ہوجاتا ہے ۔
صحت مند طرز زندگی کیلئے ہمیں اپنی عادت و اطوار میں تبدیلی لانی ہوگی ،جیسے کہ صبح کاناشتہ سب سے اچھا اور غذائیت سے بھرپور کیا جائے ( لیکن کوشش کریں کہ اس میں میدہ اور چینی کی اشیاء کم سے کم استعمال ہوں) ، دوپہر کا کھانااپنی بھوک کے مطابق کھائیں(کھانے میں روٹی یا چاول میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کریں)اور رات کا کھانا بھوک سے تھوڑا کم ہی کھائیں۔ یہ بات آپ کو بھی اچھی طرح معلوم ہوگی کہ انسان کی جسامت ہی اس کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے انسانی شخصیت میں اس کی جسامت کاکافی زیادہ دخل ہے۔ جسمانی خدوخال سے کسی کی شخصیت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ موٹا اور بے ڈول جسم کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا۔ فٹ اور اسمارٹ نظر آنے کے لیے
آپ فٹ اور اسمارٹ جسم اور اچھی صحت کیلئے اچھی عادت و اطوار کو اپنانا اپنا مقصد بنالیں۔ اس کیلئے آپ کوزیادہ بھاگ دوڑ کی ضرورت نہیں بلکہ کھانا کھانے کے اوقات درست کرکے اچھی صحت کویقینی بنایا جاسکتا ہے۔

Health Tips Viewers