LifetimeEarn
Showing posts with label Child Health. Show all posts
Showing posts with label Child Health. Show all posts

Tuesday, 23 February 2016

بچے کی نفسیات سمجھنے کے 12گُن


والدین کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کو پیدائش کے دن سے سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔ بلاشبہ ایک ذمہ دار والدین کی حیثیت سے یہ آپ کے لیے سب سے ضروری بات ہے۔ دانت کے درد کی تکلیف سے لے کر پیٹ کے درد تک اور نیپی بدلنے سے لے کر لڑکپن کے مسائل تک بچوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
بچوں کوسمجھنا ان کی بہتر پرورش کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپکا بچہ خاص شخصیت کا حامل ہے اور یہ خصوصیت ساری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہے۔ آپ کا رویہ بچے کی شخصیت کے مطابق ہو نہ کہ آپ اسکی شخصیت کو بدلنے کی کوشش کریں۔

بچے کی نفسیات کو سمجھنا ایک صبر آزما کام ہے۔درج ذیل طریقوں سے آپ کو اپنے بچے کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کر کے اسے سمجھنے میں مدد ملے گی :
1۔مشاہدہ کیجئے

اپنے بچے کی مصروفیات پر نظر رکھیں۔اس طرح آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آپ کا بچہ کیسے کھیلتا ہے کیسے کھاتا ہے اور کس طرح دوسروں سے بات چیت کرتا ہے۔
۔آپ کو اس کی بہت سی خوبیوں سے آگاہی ہوگی۔
۔مشاہدہ کیجئے کہ آیا آپ کا بچہ کسی تبدیلی میں جلد رچ بس جاتا ہے یا وقت لیتا ہے۔
۔سارے بچے ایک جیسی خوبیوں کے حامل نہیں ہوتے،یاد رکھئے ہر بچے کی الگ شخصیت ہوتی ہے۔
2۔دوست کی حیثیت سے پیش آئیں

بچے کے ساتھ دوست کی طرح پیش آئیں اس طرح آپ کا بچہ آپ کے بہت قریب آجاتا ہے لیکن ساتھ ہی کچھ حدود کا خیال رکھیں۔اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے مورد الزام ٹہرانے کے بجائے دوست کی حیثیت سے فیصلہ دیجئے۔کیوں کہ اگر آپ والدین کی حیثیت سے فیصلہ کریں گے تو وہ قدرے مختلف ہوگا۔اور اس طرح آپ کا بچہ آپ سے کوئی بات شئیر نہیں کرے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ اسے بھی موقعہ دیں کہ وہ آپ کی بات سمجھ سکے۔
3۔بچے کے ساتھ وقت گزاریں


اپنے بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تاکہ آپ اسکو اور اسکے دوستوں کو جان سکیں،اور وہ بھی آپ سے اپنے مسائل شیئر کرسکے۔آپ کتنے ہی مصروف ہوں اسے تھوڑا وقت ضرور دیں تاکہ اسے پتہ ہو کہ آپ اس کی مدد کے لیئے موجود ہیں۔
4۔بچے کو ذمہ دار بنائیے

اپنے بچے کو کم عمری ہی سے اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔
اگر وہ بغیر گرائے کپ میں دودھ نکالتا ہے،یا کھیلنے کے بعد اپنے کھلونے واپس ڈبے میں رکھتا ہے تو یہ اسکے ذمہ دار ہونے کی نشانی ہے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔اسکی تعریف کیجئے۔تاکہ وہ اور زیادہ شوق سے اپنا کام خود کرے۔
5۔ بات سنئے

اپنے بچے کی بات رد کرنے کے بجائے غور سے سنیں اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تواسے اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔
6۔اس پر الزام تراشی نہ کریں

اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تواسے بتائیں کہ اس نے جو کیا وہ صحیح نہیں تھا۔لیکن آپ اب بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔
7۔ اپنے بچے کو پر اعتماد بنائیں

اس میں اعتماد پیدا کریں۔اگر اسکا اسکول میں پہلا دن ہے تو اس سے اسکول کے بارے میں پوچھیں،اس نے اسکول میں کیا پڑھا،اسے اپنا ٹیچر کیسا لگا،اس نے کوئی دوست بنایا یا نہیں۔اس کا اعتماد بڑھائیں تاکہ وہ دوست بنانے کے ساتھ نئے اسکول کا بہتر انداز میں سامنہ کر سکے۔
8۔گھریلو معاملات میں اس کی رائے لیں


اگر آپ گھر کے معاملات میں بچے سے رائے لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بہت اہم سمجھے گااور زیادہ ذمہ دار بن جائے گا۔گھر کی سیٹنگ ہو یاکمرے کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں اس میں اپنے بچے کی رائے لیں اور اس میں چھپے منصوبے پر غور کریں بجائے اس کے کہ اس کی غلطیاں نکالیں۔اسطرح آپ کے بچے میں اعتماد پیدا ہوگااور قوت فیصلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔
9۔بچے کی ذاتی دلچسپیوں سے واقفیت رکھئے


بچے کی پرورش پر دھیان دینے کے ساتھ اس کی ذاتی پسندنا پسند سے بھی واقفیت ضروری ہے۔اپنے بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون،پسندیدہ کھیل اور ٹی وی پروگرام کے بارے میں بات کیجئے۔اسے اس کی پسندیدہ فلم دکھائیے یا اس کے ساتھ اس کا پسندیدہ کھیل دیکھئے۔اس طرح آپ کو اپنے بچے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
10 ۔اپنے وعدے پر قائم رہیں


اپنے بچے سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرکے آپ اس کا دل جیت لیں گے۔چاہے وہ ساحل سمندر پر جانے کا ہو یا سپر مارکیٹ کا،اپنے وعدے پر قائم رہئیے اس طرح آپ کے بچے میں بھی ایمانداری بڑھے گی۔
11۔اسے آزادی دیجئے

ہر وقت اپنی مرضی چلانے کے بجائے اپنے بچے کو آزادی دیجئے ،اسے اسکی پسند کے کام کرنے دیں لیکن اس کے قریب رہیں تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کرے اور ضرورت پڑنے پر اس کی رہنمائی کریں۔
12۔بچے کو بچہ ہی رہنے دیں

بچے سے زیادہ امید نہ رکھیں اگر وہ غلطی کرتا ہے تو اس سے بہت کچھ سیکھے گا۔اسے کسی کام سے روکنے کے بجائے احتیاط کرنا سکھائیں۔

Tuesday, 26 January 2016

7 Ways to Wake Up Without Caffeine



There is one ongoing fear we all come across from Monday to Friday- the alarm clock going off! Whether you have to wake up to go to school or for work, this dread in the morning becomes a little too haunting. Most of us rush to our kitchens to chug down on a cup of coffee to get us awake and going for the long day to come. Although, drinking too much caffeine can turn to desensitization, which makes it difficult to give the same old feeling you once had. So, it is best for yourself and others around you to find more ways that don’t require caffeine intake to make you feel alive in the morning.

Wake Up With Uplifting Stretches


While you’re still in bed or have found yourself on the floor, one can easily do the yoga pose called, “fish pose.”
Lie flat on your back and bring your hands underneath your hips.
Then, lift your chest above your shoulders and stretch your head back slowly.

Fish pose is one yoga stretch that can kindle your body, although there are certainly more according to your choice and ease.

An Apple A Day To Keep You Awake


Taking a chomp of this invigorating organic product is a flavorful approach to prepare your body into being ready for action. Apples contain common sugars and different starches that can balance out your glucose levels. Different natural products, similar to bananas and oranges, will do likewise. Pair a natural product with a protein, similar to a serving of Greek yogurt, for supported satiety.

Run To Waking Up


Heading outside for a morning run might be the exact opposite thing you need to do while comfortable under warm covers, yet binding up your sneaks in the a.m. has been appeared to help your temperament and vitality levels. Exercise discharges endorphin that’ll make you feel great and more arranged for the day. You don’t need to go on a five-mile rushed to profit. Have a go at something such as the seven-minute workout (which takes about the same measure of time it’d take to mix and drink some espresso) and get a wake-me-up effect in the morning.

Wake Up At The Same Time


As nice as it seems to wake up late on Saturdays and feel lazy on Sundays, it comes biting at you the next day- the horrible Monday. If you keep variations in the time you wake up during the weekend and the entire week, your body will be continuously finding it difficult to adjust to the routine. Keep one time to wake up and wake up every day on that time, your body will then just find the same energy no matter what day it is.

Avoid Carbs In The Morning


If you’re a person who munches on carbs first thing in the morning, then your system will find itself going down as the day goes on. Try to go for eggs, vegetables, oatmeal or some fresh fruits instead of the usually bagels, coffee, etc.

Be Under The Sun


Expose yourself to sunshine in the morning. Natural sunlight jolts your internal clock to wake up better than artificial light. Also, you get natural vitamin C without doing anything!

Give Yourself Time


Waking up is not an easy task, therefore it is important to allow yourself to wake up on your own. Prepare yourself mentally by talking to yourself and informing your mind to how important it is for you to wake up today and that to at the right time with the right energy. What you tell your mind, is what your mind will do.

پیٹ کے کیڑے مارنے کے ٹوٹک



آنتوں میں کیڑے ہونا ترقی پذیر ممالک میں ایک عمومی مرض ہے اور خصوصاً بچوں میں یہ مرض بہ کثرت پایا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے اندازوں کے مطابق 5 سے 9 سال تک کی عمر کے قریب 20 تا 40 فیصد بچوں کے پیٹ میں کبھی کبھار کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ اکثر سال دو سال کے بچوں کے پیٹ میں کیڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ کیڑے بچوں کے فضلے میں دھاگہ نما ٹکڑوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ یہ علامت کسی مرض کی تو نہیں لیکن اسے نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔ پیٹ کے کیڑے اسکول میں ایک بچے سے دوسرے بچے میں اور خاندان کے دیگر افراد میں بھی بآسانی منتقل ہوسکتے ہیں۔ دراصل رات کو سوتے وقت بچے کے مقعد میں خارش ہوتی ہے یوں کھجلانے پر ان کیڑوں کے انڈے بچے کے ناخنوں میں آجاتے ہیں اور پھر ہاتھوں کے ذریعے یہ انڈے دوسرے افراد میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ پیٹ کے کیڑوں کا علاج بہت آسان ہے ڈاکٹر پیٹ کے کیڑے نکالنے کی دوا دیتا ہے جس سے دست کے ذریعے سے یہ کیڑے پیٹ سے باہر آجاتے ہیں۔

پاکستان کے بیشتر علاقوں کا مرطوب موسم ان کیڑوں کو سازگار ماحول فراہم کرتا ہے لیکن ان کے پھیلنے کے بے شمار ذرائع اور بھی ہیں۔ یہ پینے کے پانی میں کسی بھی قسم کی کثافت کی آمیزش سے انسانی پیٹ میں پہنچ سکتے ہیں ، سبزیوں اور پھلوں کو اگر بغیر دھوئے استعمال کیا جائے تو بھی ان کے انسانی جسم میں پہنچنے کا اندیشہ ہے ، یہ ابتدا میں ’یک خلیائی جسم‘ ہوتے ہیں لہٰذا یہ ناخنوں کے ذریعے منہ سے اور ہوا کے ذریعے ناک سے بھی انسانی جسم میں داخل ہونے کا راستہ بنا لیتے ہیں اور گھر سے باہر ننگے پیر گھومنے کی صورت میں پیر کے مساموں سے انسانی جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

اگر کسی بچے کو مسلسل پیٹ میں درد، سر میں درد یا کوئی اور جسمانی تکلیف لاحق ہو تو جسمانی تکلیف کے علاج کے ساتھ ساتھ اس بچے کے جذباتی مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے جس طرح بڑے جذباتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اسی طرح بچوں کو بھی یہ مسائل درپیش ہوسکتے ہیں وہ اپنے اساتذہ، گھر کے کسی فرد یا اپنے ماحول میں موجود کسی ایسے رویے سے نالاں ہوتے ہیں چونکہ اس وقت انھیں اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہوتا اس لیے وہ چڑچڑے اور ضدی ہوجاتے ہیں۔پیٹ میں پائے جانے والے کیڑوں کے خلاف ادویات گرچہ موجود ہیں اور یہ کار آمد بھی ثابت ہوتی ہیں تاہم حفظان صحت کی خرابی اور صفائی کے چند بنیادی اصولوں کی اگر پابندی نہ کی جائے، تو یہ ادویات بھی افاقے کا باعث نہیں بن سکتی ہیں۔

پیٹ میں کیڑوں کا سبب بننے والا انفیکشن ایک متعدی مرض ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے بچوں کو دوسرے بچوں سے دور رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اس عفونت کے شکار بچوں کے لباس کو ہر روز بدلنا، ان کے جسم کو اچھی طرح دھونا، خاص طور پر ان کے ہاتھوں کو منہ میں لگنے سے پہلے دھونا اور ان کے بستر کو صاف ستھرا رکھنا چند بنیادی اصول ہیں جن کی پابندی ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انفیکشن بچوں سے ماؤں کو بھی لگ سکتا ہے۔ ناخنوں کے ذریعے بھی یہ انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس لیے ناخن تراشنا اور انھیں صاف کرتے رہنا بھی نہایت ضروری عمل ہے۔

پیٹ کے کیڑے بچوں میں خون کی کمی کا باعث بنتے ہیں اور اس وقت 50سے 60فیصد بچے اس مرض میں مبتلا ہیں اور 90فیصد حاملہ خواتین بھی خون کی کمی کا شکار ہیں اس لیے انھیں آئرن اور فولک ایسڈکا استعمال کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ماں کے دودھ میں شفا رکھی ہے بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچانے کے لیے انھیں پیٹ کے کیڑے مار ادویات پلائیں اور حفاظتی ٹیکہ جات ضرور لگوائیں۔

اس بیماری کے علاج کیلئے مندرجہ ذیل آسان گھریلو ٹوٹکے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں:

*۔۔۔ دھنیا پاؤڈر تین سے پانچ گرام چینی ملا کر صبح شام پانچ روز تک کھائیں۔پیٹ کے کیڑے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے اور دوبارہ کبھی نہ ہوں گے۔
*۔۔۔ کدو کے بیج پیس کر پھلوں کے جوس یا کسی بھی مشروب میں ملا کر پئیں، یا کدو کے بیج پیس کر سویا ملک میں ڈالیں اور ساتھ کچھ پسا ہوا پیاز بھی شامل کرلیں۔ بہتر ہے کہ اسے استعمال کرنے کے تین گھنٹے بعد جلاب لیں۔
*۔۔۔ آنتوں کے کیڑوں کا ایک آسان علاج انار کے چھلکے ہیں۔ ان چھلکوں کو خشک کرکے پیس لیں اور تقریباً 3 گرام پاؤڈر کو پانی کے بڑے گلاس میں ڈال کرپئیں۔
*۔۔۔ ایک اور سادہ مگر قدرے کڑوا حل یہ ہے کہ ادرک کی چند گھٹلیاں لے کر انھیں پیس لیں یا کدوکش کرکے کچا کھالیں۔

Sunday, 6 December 2015

Bachon ki Qabz ka Ilaj

Qabz ki shikayut bachon mein aam tor par hojaya karti hai. Aur is ki wajoohaat bhi be shumar hua karti hain. Ziada tar wajoohaat nqsaan dah nahi hotin. Misal ke tor par agar bache ki khorak mein pani aur fiber ki kami hai to phir qabz ho jaya karta hai. Ya phir agar woh bimar hon to kuch dinon ka qabz thori pareshanyan paida kar skta hai.

Woh bache jinhein poti ke liye jate waqt be shumar hidayaat di jati hain aur jin ke zehnon par gandgi ka khof hota hai who bhi qabz ka shikar ho jate hain. Ya phir woh bache jo kheil kood mein itne msroof hon keh inhein toilet jane ka kheyal hi nahi rahe.

Man ka dhoodh pine wale bachon ko baaz auqaat kayi kayi dinon tak poti nahi hoti. Lekin is ka mtlab yeh nahi hota keh woh qabz mein mubtila ho gaye hon.

Han kuch cases aise bhi hote hain jin mein yeh qabz koi khatarnaak alamat ke tor par samne aata hai. Behar haal qabz ki tarf tawajjah dena buhat zaroori hai. Kiun keh fazil aur gandah mawad aanton mein jam kar khushk ho jata hai aur bache ko ise paas karne mein tkleef hoa karti hai.

Qabz ki Alamaat

Toilet jane ke bad bachah maamool se kahin ziadah waqt lagaye ya phir yun hi uth kar chala aaye aur agar mawad kharij bhi ho to buhat tkleef aur dushwari ke baad

Bhook ki kami aur pait mein maroor ya dard.

Badboo- fazil hone wale mawad mein

Kabhi kabhi faizil mawad ke sath halka halka khoon ka rasao jis ke dhabbe panty waghirah par dekhayi dein.

Raat ko bistar kharab ho jana.

Kia Karna Chahiye


Yeh note karein keh aap ke bache ko pichla motion kab hua tha. Woh kaisa tha. Bache ne kia khaya piya tha. Farz karein agar bache ko rozanah toilet ki hajat nahi hoti hai to pareshan na hon. Yeh aik normal si baat hai. Buhat se bache aur kuch bare bhi 2, 1 din dinon ke baad hajat mehsoos kia karte hain.

Qabz ki surat mein bache ko ghar mein tiyar kardah mashroobaat ziadah se ziadah istemaal karwayein. Ice cream waghirah khane ko dein.

Khane pine ki aadat mein baqaidgi paida karein. Beqaidagi se bhi qb ki shikayat paida ho jatihai. Bache ko bhar poor ghizayein dein. Anaaj ki har qisam khilaya karein jaise chawal, gandum aur dalein waghirah mqdar aahistah aahishtah barhati jayein.

Tazah phalon aur sabziyon ka istemaal ziadah karein is shikayat mein khushk mewah jaat bhi mufeed sabit hote hain. Jaise phalyan, baadam aur sweet corn waghirah. Bache ke pait par daire ki surat mein malish karne se bhi qabz ka azalah ho jata hai.

Bachon mein jis tarah khane pine ki aadaat dali jati hain is tarah in mein toilet jane ki aadat bhi dalni chahiye. Takeh woh baqaidah ho jayein. Qabz ki surat mein doctor ke mashware ke beghir apni tarf se bache ko dawayein istemaan na karayein.

Bachon ki Qabz ka Ilaj

Agar mandarjah bala mashwaron par amal karne ke bawajood qabz ki wahi surat haal rehtihai ya bache ko stool mein khoon bhi aane laga hai to phir doctor ke paas zaroor jayein. Aur is mein der na lagayein. Is marz ka khatmah jitni jaldi ho jaye itna hi behtar hua karta hai.

Baaz auqaat motion ko loose karne ke liye khas qisam ki cream bhi istemaal ki jatihai. Yeh cream doctor ki hidayat se istemaal ki jaye. Yeh cream 6 se 8 cup ani ke sath aik din mein istemaal hotihai.. aur is ki wajah se motion loose ho jate hain.

Kuch bachon ko yeh cream kayi hafton tak istemaal karayi jatihai. Takeh in ke nizam kharij mein aik baqaidgi paida ho jaye. Agar iske bawajood surat e haal mein koi tbdili na ho to phir aisi surat mein doctor mazeed muaine ke liye bache ko hospital mein rakh skta hai.

Health Tips Viewers